Showing posts with label مکس شا عری. Show all posts
Showing posts with label مکس شا عری. Show all posts

Tuesday, October 23, 2012

اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون

اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون
کس سے مکالمہ ہے ! پسِ گفتگو ہے کون

سایہ اگر ہے وہ تو ہے اُس کا بدن کہاں؟
مرکز اگر ہوں میں تو مرے چار سو ہے کون

ہر شے کی ماہیت پہ جو کرتا ہے تو سوال
تجھ سے اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تو ہے کون

اشکوں میں جھلملاتا ہوا کس کا عکس ہے
تاروں کی رہگزر میں یہ ماہ رو ہے کون

باہر کبھی تو جھانک کے کھڑکی سے دیکھتے،
کس کو پکارتا ہوا یہ کو بہ کو ہے کون

آنکھوں میں رات آ گئی لیکن نہیں کھلا
میں کس کا مدعا ہوں؟ مری جستجو ہے کون

کس کی نگاہِ لُطف نے موسم بدل دئیے
فصلِ خزاں کی راہ میں یہ مُشکبو ہے کون!

بادل کی اوٹ سے کبھی تاروں کی آڑ سے
چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو ہے کون

تارے ہیں آسماں میں جیسے زمیں پہ لوگ
ہر چند ایک سے ہیں مگر ہو بہو ہے کون

ہونا تو چاہیے کہ یہ میرا ہی عکس ہو!
لیکن یہ آئینے میں مرے روبرو ہے کون

اس بے کنار پھیلی ہوئی کائنات میں
کس کو خبر ہے کون ہوں میں! اور تُو ہے کون

سارا فساد بڑھتی ہوئی خواہشوں کا ہے
دل سے بڑا جہان میں امجد عدُو ہے کون

Friday, September 21, 2012

ھم تیرے شہر میں آئے ہیں مُسافر کی طرح

ھم تیرے شہر میں آئے ہیں مُسافر کی طرح
ھم تیرے شہر میں آئے ہیں مُسافر کی طرح
صرف اِک بار ملاقات کا موقع دے دے

میری منزل ھے کہاں میرا ٹھکانہ ھے کہاں
صبح تک تجھ سے بچھڑ کر مجھے جانا ھے کہاں
سوچنےکے لیے اک رات کا موقع دے دے

اپنی آنکھوں میں چھپا رکھے ھیں جگنو میں نے
اپنی پلکوں پہ سجا رکھے ہیں آنسو میں نے
میری آنکھوں کو بھی برسات کا موقع دے دے

آج کی رات میرا دردِ محبت سُن لے
کپکپاتے ھوئے ھونٹوں کی شکایت سُن لے
آج اظہار خیالات کا موقع دے دے

بھولنا تھا تو یہ اقرار کیا ھی کیوں تھا
بے وفا تو نے مجھے پیار کیا ھی کیوں تھا
صرف دو چار سوالات کا موقع دے دے

ھم تیرے شہر میں آئے ہیں مُسافر کی طرح
صرف اِک بار ملاقات کا موقع دے دے

Thursday, September 20, 2012

بچڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے

بچڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
وہ زود رنج تو ہے، وہ وفا شناس بھی ہے

تقاضے جِسم کے اپنے ہیں، دل کا مزاج اپنا
وہ مجھ سے دور بھی ہے، اور میرے آس پاس بھی ہے

نہ جانے کون سے چشمے ہیں ماورائے بدن
کہ پا چکا ہوں جسے، مجھ کو اس کی پیاس بھی ہے

وہ ایک پیکرِ محسوس، پھر بھی نا محسوس
میرا یقین بھی ہے اور میرا قیاس بھی ہے

حسیں بہت ہیں مگر میرا انتخاب ہے وہ
کہ اس کے حُسن پہ باطن کا انعکاس بھی ہے

ندیم اُسی کا کرم ہے، کہ اس کے در سے ملا
وہ ا یک دردِ مسلسل جو مجھ کو راس بھی ہے

اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں

اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں

احتیاط اہل محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پایہ رسن جاتے ہیں

جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں

ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں

اجاڑ لمحوں کی داستانیں جو تم کہو تو سنائیں تم کو

اجاڑ لمحوں کی داستانیں جو تم کہو تو سنائیں تم کو
بہت سا ھم جاگتے رھے ھیں چلو ذرا سا جگائیں تم کو

تم ھی ھو جو روشنی سی بن کر ھماری آنکھوں میں آبسے ھو
جب اپنی آنکھیں ھی کہ دیا ھے تو پھربھلا کیوں رلائیں تم کو

غبار آلود راستوں میں تلاش کرکر کے تھک گئے ھیں
کہاں پہ جا کے بسے ھوئے ھو، کہاں سے ھم ڈھونڈھ لائیں تم کو

تمہیں تو سکھ آ گئے میسر، تمھیں تو ھم یاد ھی نہیں ھیں
مگر یہ بتاؤ کہ ھم جو چاھیں تو کس ترھ بھلائیں تم کو

کہو کہ جاذب یہ جھوٹ ھے نا کہ تم نے اس کو بھلا دیا ھے
انھی تلک جس کی شوخ یادیں ھر ایک لمحے ستائیں تم کو

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو ہم بھی اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے شغف ہے اسکو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ان کی
سو ہم بھی اسکی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

میرے قلم پہ رہی نوک جس کے خنجر کی

میرے قلم پہ رہی نوک جس کے خنجر کی
سنا ہے اس کی زباں بھی ہوئی ہے پتھر کی

رواں ہے قلزمِ خوں اندرونِ شہر بھی سیکھ
کہ خوش نما تو بہت ہے فصیل باہر کی

اجاڑ پیڑ گئے موسموں کو روتے ہیں
ہر آبجو کو ہوس پی گئی سمندر کی

فقیہہِ شہر جبیں پر کلاہِ زر رکھے
سنا رہا ہے ہمیں آیتیں مقدر کی

خود اپنے خوں میں نہائے ہوئے مگر چپ ہیں
یہ لوگ ہیں کہ چٹانیں ہیں سرخ پتھر کی

وہ ایک شخص کہ سورج کے روپ میں آیا
چرا کے لے گیا شمعیں فراز ہر گھر کی

تم میری کون ہو ، تم سے ہے تعلق کیسا ک

تم میری کون ہو ، تم سے ہے تعلق کیسا ک
تم کسی دھند میں لپٹی ہوئی تنہائی ہو
میری شہرت ہو ، دعا ہو ، ،مری رسوائی ہو
بات کرتی ہو ، کبھی چپ میں بکھرجاتی ہو
کیوں میری روح کے گوشوں پر ستم ڈھاتی ہو
تم میری کون ہو ، تم سے ہے تعلق کیسا

گنگناتی ہو تو یہ محسوس ہوتا ہے مجھے
جیسے دریاؤں کے ساحل سے صدا آتی ہے
پاس آتا ہوں تو خوابوں میں اُتر جاتی ہو
دورجاتا ہوں تو دامن سے لپٹ جاتی ہو
تم میری پاس ہو نہ دور ہو میرے دل سے
تم میری کون ہو ، تم سے ہے تعلق کیسا

چلو چھوڑو


چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شغَل ہے بے کار لوگوں کا
’’طَلَب ‘‘ سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
’’ خلش ‘‘ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
’’ خُمارِ وصل ‘‘ تپتی دھوپ کے سینے پہ اُڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!
’’ غبارِ ہجر ‘‘ صحرا میں سَرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ

چلو چھوڑو!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تُم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلوگی!

چلو چھوڑو!
وہ سارے خواب کچّی بھُر بھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہارے اُنگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا لیکن
تمہاری اُنگلیاں تو عادتاً یہ جُرم کرتی تھیں

چلو چھوڑو!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں
صدیوں سے

چلو چھوڑو!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
’’ میرے خوابوں کو مرنے دو ‘‘
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھّو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں سے کچّے رابطے توڑو

تو میری روح کا مسکن میرا حاصل اے دوست

تو میری روح کا مسکن میرا حاصل اے دوست
تو میرا شوق و جنوں تو میرا دیوانہ پن
تو میرا قصر نفس تو ہی تو بیگانہ پن
تو میری روح کے ہر تار میں موتی کی طرح
تو میرے ذہن کے ادرک میں صوتی کی طرح
تو میرے جسم کا حصّہ کہ اگر چہ کچھ دور
تو میری عقل کا ہالا میری تفہیم کا نور
تیرا انداز تکلم میری تسکین جاں
تیرے چہرے پہ تبسم میرے دل کا ارماں
تیری آنکھوں کے دریچے میں اگر جا پاؤں
کتنی زخمی ہے میری روح یہ سمجھا پاؤں
کتنا آلودہ میرا ذہن ہے کتنا بسمل
کتنی افسردہ میری روح ہے کتنی گھائل
کتنے ہیں کرب چھپے میری ہنسی کے پیچھے
کتنے طوفان ہیں رکے میری خودی کے پیچھے
اک دو پل کی رفاقت ہی ہے سالوں کا سفر
خاک ہو جاؤں بھی تو دے مجھے نفرت کا زہر
تیری یادوں کا کفن اوڑھ کے بس سو جاؤں
تیری دنیا سے بہت دور کہیں کھو جاؤں
دور اتنا میں چلا جاؤں کے شاید کوئی
میری یادوں کو بھی چھو پاۓ نہ شاید کوئی

محبت ایسا نغمہ ہے

محبت ایسا نغمہ ہے



ذرا بھی جھول ہے لَے میں
تو سُر قائم نہیں ہو تا


محبت ایسا شعلہ ہے
ہوا جیسی بھی چلتی ہو
کبھی مدھم نہیں ہوتا

محبت ایسا رشتہ ہے
کہ جس میں بندھنے والوں کے
دلوں میں غم نہیں ہوتا

محبت ایسا پودا ہے
جو تب بھی سبز رہتا ہے
کہ جب موسم نہیں ہوتا

محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا

کُوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں

کُوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی! آج تیرا قرض چُکا دیتے ہیں

تیرے اخلاص کے افسُوں ترے وعدوں کے طلسم

ٹُوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں

ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست

تیرے قدموں میں ستاروں کو جُھکا دیتے ہیں

سینہ چاکانِ محبت کو خبر ہے کہ نہیں

شہرِ خُوباں کے دروبام صدا دیتے ہیں

ہم نے اس کے لب و رُخسار کو چُھو کر دیکھا

حوصلے آگ کو گُلزار بنا دیتے ہیں

اسے مجھ سے محبت ہے

اسے مجھ سے محبت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

وہی تکرار لفظوں کی
وہی اندیشے فرقت کے
وہی انجان سی دستک
وہی گمنام سی کسک
وہی ہر بات پر لڑنا
وہی لکھنا ہمارے نام کو بے رحم موجوں پر
ہمارے سامنے کچے گھروندے توڑ کر ہنسنا
وہی اپنی کتابوں میں گلابی تتلیاں رکھنا
وہی بے معنی باتوں میں ہمارا ذکر لے آنا
ہمیں پردے سے چھپ کر دیکھنا اور مسکرا دینا
وہی مسکان دھیمی سی
وہی چپ چاپ سا لہجہ
وہی بے چین سی ہلچل
وہی سائے سے گھبرانا
وہی کہنے سے کچھ ڈرنا
وہی بے وجہ اٹھلانا
سب ہی آثار کہتے ہیں

اسے مجھ سے محبت ہے

میں ہزار بار چاہوں کہ وہ مسکرا کے دیکھے

میں ہزار بار چاہوں کہ وہ مسکرا کے دیکھے
اُسے کیا غرض پڑی ہے جو نظر اُٹھا کے دیکھے
مرے دل کا حوصلہ تھا کہ ذرا سی خاک اُڑا لی
مرے بعد اُس گلی میں کوئی اور جا کے دیکھے
کہیں آسمان ٹُوٹا تو قدم کہاں رُکیں گے
جِسے خواب دیکھنا ہو ، وہ زمیں پہ آ کے دیکھے
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے یہ شکستِ عہد و پیماں
جو فریب دے رہا ہے وہ فریب کھا کے دیکھے
ہے عجیب کشمکش میں مری شمعِ آرزو بھی
میں جَلا جَلا کے دیکھوں ، وہ بُجھا بُجھا کے دیکھے
اُسے دیکھنے کو : قیصر : میں نظر کہاں سے لاؤں ؟
کہ وہ آئینہ بھی دیکھے تو چُھپا چُھپا کے دیکھے

Telawat Shah Azaad

via IFTTT